کلمۂ طیب
معنی
١ - پاک کلمہ؛ مراد : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ "پھول اور سفید کفن میں کلمۂ طیبہ کی پُر رقت گونج کے درمیان دفن کر دیا گیا۔" ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢١٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'کلمہ" کو ہمزۂ صفت کے ذریعے اسی باب سے مشتق صفت طیب کے ساتھ ملانے سے مرکب توصیفی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٥٥ء کو "تعلیم الصبیان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پاک کلمہ؛ مراد : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ "پھول اور سفید کفن میں کلمۂ طیبہ کی پُر رقت گونج کے درمیان دفن کر دیا گیا۔" ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢١٩ )